ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہجومی تشدد کو نیا پیمانہ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی : عدالت عظمیٰ 

ہجومی تشدد کو نیا پیمانہ بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی : عدالت عظمیٰ 

Wed, 18 Jul 2018 00:34:18    S.O. News Service

نئی دہلی17جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے آج پارلیمنٹ سے کہا کہ بھیڑ کی طرف سے سینکڑوں افراد کو پیٹ پیٹ کرجاں بحق کرنے کے واقعات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لئے نیا قانون بنانے پر غور کیا جائے۔

چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس دھننجے وائی چندرچوڑ کے بنچ نے بھیڑ اور مبینہ گؤ رکھشکوں کی طرف سے کیے جانے والے تشدد سے نمٹنے کے لیے ’’بچاؤ، علاج اور تادیبی اقدامات کی تجویزکے لیے ہدایات جاری کئے ۔بنچ نے کہا کہ اس سمت حکومت یقینی بنائے ، دراں حالے کہ معاشرے میں قانون و انتظامیہ برقرار رکھنا ریاستوں کا کام ہے۔بنچ نے کہا کہ عوام قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے اور یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ میں قانون نہیں بنا سکتے۔عدالت نے کہا کہ بھیڑ تنتر ( ہجومی تشدد ) کی ان خوفناک سرگرمیوں کو ایک نئی روایت نہیں بننے دیا جا سکتا۔

بنچ نے یہ بھی کہا کہ اس نے کہا کہ ریاست ایسے واقعات کو نظر انداز نہیں کر سکتی ہیں۔بنچ نے کہا کہ بھیڑ کے تشدد کے سے نمٹنے کے لیے نئے دفعات والا قانون بنانے اور ایسے مجرموں کے لیے اس میں سخت سزا کی تجویز پر غور کرنا چاہئے۔کورٹ نے تشار گاندھی اور تحسین پوناوالا جیسے لوگوں کی پٹیشن پر سماعت کے دوران یہ حکم دیا ہے ۔ اس درخواست میں ایسے پرتشدد واقعات پر قدغن لگانے کے لیے ہدایات وضع کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

عدالت نے اس کے ساتھ ہی اس مفاد عامہ کی عرضی پر مزید غور کرنے کے لیے 28 اگست کو درج کیا ہے اور مرکز اور ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ اس کی ہدایات کی روشنی میں ایسے جرائم سے نمٹنے کے لیے اقدامات اٹھائے ۔ کمرہ عدالت میں حکم پڑھ رہے چیف جسٹس نے اس طرح کے جرائم سے نمٹنے کے لئے عدالت کی طرف سے دی گئی ہدایات کو پڑھ کر نہیں سنایا۔اس سے پہلے عدالت عظمیٰ نے بھیڑ کی طرف سے تشدد کرنے کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مبینہ گؤ رکھشکوں کی طرف سے پیٹ پیٹ کر قتل کے معاملات کو جرم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ صرف قانون کا مسئلہ نہیں ہے۔

ان درخواستوں پر سماعت کے دوران مہاتما گاندھی کے پوتے تشار گاندھی کی جانب سے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے کہا تھا کہ عدالت کے احکامات کے باوجود گؤ رکھشکوں کی طرف سے لوگوں کو پیٹ پیٹ کر قتل کے واقعات ہو رہے ہیں۔اضافی سالسیٹرجنرل پی ایس نرسمہا نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت اس صورت حال سے مطلع ہے اور اس سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔عدالت عظمیٰ نے گزشتہ سال چھ ستمبر کو تمام ریاستوں سے کہا تھا کہ گؤ رکشا کے نام پر ہو رہے تشدد کو روکا جائے۔ عدلیہ نے ہر ضلع میں ایک ہفتے کے اندر اندر سینئر پولیس افسران کو نوڈل افسر مقرر کرنے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے مبینہ گؤ رکھشکوں کے خلاف سختی سے نمٹنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ 


Share: